بنگلورو،9؍نومبر(ایس او نیوز) شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی علاقے میں تشدد کے سلسلہ میں مطلوب سابق میئر آر سمپت راج کی گرفتاری کے لئے شہر کے سنٹرل کرائم برانچ کی طر ف سے بہت بڑے پیمانے پر تلاشی مہم میں کوئی کامیابی نہ مل سکی۔
بتایا جاتا ہے کہ پہلے میسور ضلع میں کرناٹک تمل ناڈو سرحد اور اس کے بعد مہاراشٹرا کے مختلف شہر وں میں سمپت راج اور ان کے ساتھیوں کے لئے تلاشی مہم چلانے کے بعد سی سی بی کے تمام افسران خالی ہاتھ بنگلورو لو ٹ آئے ہیں۔ پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ سمپت راج اور کارپوریٹر اے آر ذاکر میسور کے قریب ناگر ہولے کے ایک ریسارٹ میں مقیم ہیں۔اس کے بعد ناگر ہو لے کے متعدد ریسارٹوں میں تلاشی مہم چلائی گئی، لیکن یہ پولیس کے ہاتھ نہ لگے۔
بتایا جاتا ہے کہ فی الوقت سمپت راج کی تلاش کے لئے سی سی بی کی الگ الگ ٹیموں پر مشتمل 35سے زائد افسران کام میں لگے ہوئے ہیں۔ شہر کا بیپٹسٹ اسپتال جہاں سمپت راج زیر علاج تھے اور وہیں سے لاپتہ ہوئے،سی سی بی نے اس اسپتال کے عملہ کو بھی طلب کر کے پوچھ گچھ کی،لیکن اس سے بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کے بعد سمپت راج کے اقرباء کو طلب کر کے ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تو اس مرحلے میں بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سی سی بی نے جانچ کے دوران پتہ لگایا ہے کہ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد دو دن تک سمپت راج ذاکر اور یاسر کے ساتھ شہر کے قلب میں آنے والے علاقے کے ایک اپارٹمنٹ میں ہی مقیم تھے۔ لیکن جیسے ہی عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت عرضی خارج کی سمپت راج نے راہ فرار اختیار کرلی۔